2005 میں جب امریکہ اور روس مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی جنگوں میں مصروف تھے،
چین وسطی ایشیا کے ملک قازقستان میں سرمایہ کاری کر رہا تھا۔
نتیجہ؟ آج وسطی ایشیا نیا مشرقِ وسطیٰ بنتا جا رہا ہے— یورینیم، لیتھیم اور تیل کی دولت سے مالامال!
چین کیسے زمین کے وسائل پر قبضہ جما رہا ہے؟🧵
قازقستان چھپے ہوئے خزانوں کی سرزمین ہے اور عالمی معدنی منڈی کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔
یہ دنیا کا سب سے بڑا یورینیم پیدا کرنے والا ملک ہے، جو صاف توانائی کے ذرائع تلاش کرنے والی اقوام کے لیے ایک اہم سپلائر ہے۔
اب تصور کریں کہ ان وسائل پر قابو پانے کا کیا مطلب ہوگا!
جو قوم قازقستان میں مضبوط موجودگی رکھتی ہے، وہ اس دولت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
اسی لیے چین نے روس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے قازقستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہو گیا ہے۔
چین نے قازقستان کی معیشت کے اہم شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے:
1️⃣ توانائی کا شعبہ: پاور چائنا کے کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ، خرومتاؤ میں 150 میگاواٹ ہوا پاور پروجیکٹ، اور ینگ لی سولر پاور پلانٹ پروجیکٹ۔
2️⃣ انفراسٹرکچر کی ترقی: آستانہ-قراغندا-بلخاش-الماتی ہائی وے کی تعمیرِ نو، تاکہ روابط میں بہتری آئے۔
3️⃣ پیٹروکیمیکل سیکٹر: چین کے CITIC گروپ نے تقریباً $1.6 بلین کی بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔
چین قازقستان کو 2060 تک کاربن نیوٹرل بننے اور 2030 تک قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو 15% تک بڑھانے میں بھی مدد کر رہا ہے۔
یہ سرمایہ کاری روزگار کے مواقع، تکنیکی ترقی، جدید انفراسٹرکچر، اور صنعتی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔
اب، صرف قازقستان ہی نہیں بلکہ تاجکستان اور کرغیزستان جیسے دیگر ممالک بھی بڑی سرمایہ کاری دیکھ رہے ہیں۔
لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ممالک چین کے ساتھ اپنی تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو کیوں مضبوط کر رہے ہیں؟
تاریخی طور پر، یہ ممالک روس پر انحصار کرتے تھے، خاص طور پر توانائی اور فوجی تعاون میں۔
لیکن کسی ایک ملک پر زیادہ انحصار سے بچنے کے لیے، اب یہ ممالک ایک "ملٹی ویکٹر" خارجہ پالیسی اپناتے ہیں۔
روس ایک اہم شراکت دار ہے، لیکن چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایک متوازن کردار ادا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، اس خطے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں سے فنڈنگ محدود ہے۔
جبکہ طویل مدتی سرمایہ کاری ضروری ہے، مغربی امداد اکثر قلیل مدتی مالی ضروریات پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جو اس خطے کی ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
یہاں چین ایک اہم مالیاتی شراکت دار کے طور پر ابھرتا ہے۔
چینی مالیاتی ادارے زیادہ لچکدار شرائط کے ساتھ قرضے فراہم کرتے ہیں۔
اب جب ہم نے وسطی ایشیائی ممالک کے مقاصد کو سمجھ لیا ہے، آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ چین جیسا "ڈریگن" اس خطے میں کیوں دلچسپی لے رہا ہے؟
وسطی ایشیا ایک زمینی خطہ ہے اور اس کی اسٹریٹجک جگہ چین کے لیے بہت اہم ہے۔
یہ علاقہ چین کی "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" (BRI) کا اہم حصہ ہے، جو یوریشیا میں ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک بناتا ہے۔
توانائی کے تحفظ کے لیے، چین نے توانائی کی شراکت داری اور پائپ لائنز جیسے منصوبے قائم کیے ہیں، جیسا کہ چین-وسطی ایشیا گیس پائپ لائن۔
اس کے ذریعے چین نے اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا اور مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر انحصار کم کیا۔
امریکہ نے نیٹو ممالک میں روس کی سرحدوں کے قریب فوجی اثاثے رکھے ہیں۔
چین کو خدشہ ہے کہ وسطی ایشیا میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے، جہاں امریکہ یا دیگر طاقتیں چین کے علاقائی غلبے کو گھیر سکتی ہیں۔
BRI کے ذریعے، چین انفراسٹرکچر سرمایہ کاری کو ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ ایشیا، افریقہ، اور یورپ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا جا سکے۔
قرضے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے، چین اکثر چھوٹے ممالک کو "قرض کے جال" میں پھنسا دیتا ہے۔
یہ حکمت عملی دیگر ممالک میں بھی دیکھی گئی ہے، جہاں بڑے انفراسٹرکچر قرضوں نے چینی مالی مدد پر انحصار کو بڑھا دیا۔
اسی طرح، قازقستان میں چین کے قرضے بھی اس حکمت عملی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جہاں مالی انحصار کو اسٹریٹجک فوائد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
لہذا، چین اور وسطی ایشیائی خطے کے تعلقات اتنے سادہ نہیں جتنے پہلی نظر میں لگتے ہیں۔
یقیناً یہ تعلقات بہت اہم ہیں اور آنے والے سالوں میں جغرافیائی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں