نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

جعلی پیسے کو حقیقی پیسے سے بدلتے رہیں

 آج "رچ ڈیڈ، پور ڈیڈ" کے مصنف نے اپنی ٹویٹر پر یہ کہا:

غربت کے خیالات اور الفاظ:
1: "Bitcoin کی قیمت $76,000 ہے۔ یہ تو بہت مہنگا ہے۔ میں انتظار کروں گا کہ قیمت نیچے آئے۔"
2: "Gold کی قیمت $2684 فی اونس ہے۔ یہ بھی بہت مہنگا ہے۔ میں انتظار کروں گا کہ قیمت کم ہو۔"
3: "Silver کی قیمت $32 فی اونس ہے۔ یہ بھی مہنگی ہے۔ قیمت کم ہونے کا انتظار کروں گا۔"
قیمتیں نیچے آئیں گی… مگر صرف قیمتوں کا گرنا آپ کو امیر نہیں بناتا۔ اصل میں ایک شخص کو مالدار بناتا ہے کہ اس کے پاس کتنے Coins یا Ounces ہیں۔
میں نے $1 فی اونس پر Silver خریدنا شروع کی تھی۔ اب میرے پاس ہزاروں Ounces ہیں۔ اور $32 پر بھی خرید رہا ہوں۔
یہی بات Gold اور Bitcoin پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
میں نے پہلا Bitcoin $6000 پر خریدا تھا، اور اب $76,000 پر بھی لے رہا ہوں۔
یاد رکھیں، ہر Coin کی قیمت ضرور اہم ہے… مگر اصل چیز یہ ہے کہ کتنے Coins, Gold, Silver یا Bitcoin آپ کے ہیں… یہی اصل اہمیت رکھتا ہے۔
جعلی پیسے کو حقیقی پیسے سے بدلتے رہیں… تو آپ دولت مند بن جائیں گے۔
خوش قسمت ہوں کہ مجھے Bitcoin $10 پر خریدنے کا موقع ملا ہوتا… مگر نہیں ملا۔ میں نے $6000 پر خریدا اور خوش ہوں کہ میں نے یہ فیصلہ کیا۔
آج میرے پاس 73 Bitcoin ہیں۔
ایک سال بعد میرا ارادہ ہے کہ 100 Bitcoin کا مالک بن جاؤں… قیمت کچھ بھی ہو۔
FYI: میرے پاس آمدنی دینے والی جائیدادیں ہیں، Gold نکالنے کی کانیں ہیں، اور میں اپنے منافع کو Bitcoin, Gold اور Silver Coins میں محفوظ کرتا ہوں… یعنی اصلی دولت۔
کاش Bitcoin $10 پر واپس آ جائے… مگر "کاش" کہنے سے کبھی غریب لوگ امیر نہیں ہوئے۔
خیال رکھیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جب سچائی زبردستی کہلوائی جائے

  کوئن ڈی سی ایکس میں شفافیت کی عمر صرف "سترہ گھنٹے" تھی۔ بالکل ویسے جیسے دھواں ہوتا ہے — لمحوں میں غائب۔ ہندوستان کے دوسرے بڑے کرپٹو ایکسچینج سے 44.3 ملین ڈالر چپکے سے اڑا لیے گئے، اور اس دوران انتظامیہ نے عجیب خاموشی اختیار کی۔ نہ کوئی اعلان، نہ کوئی صفائی۔ خاموشی ٹوٹتی بھی کیسے؟ جب تک مشہور بلاک چین جاسوس ZachXBT نے ثبوتوں کی توپ نہ چلائی، کوئن ڈی سی ایکس مکمل خاموش تماشائی بنی رہی۔ چوروں نے اپنا کام خوب تیاری سے کیا۔ پہلے 1 ETH کو ٹورنیڈو کیش میں دھویا، پھر فنڈز کو مختلف چینز پر پھیلایا، اور بالآخر، کوئن ڈی سی ایکس کے والٹس کو surgical precision کے ساتھ خالی کر دیا۔ ادھر 28.3 ملین سولانا اور 15.78 ملین ایتھیریئم مکسنگ پروٹوکولز میں غائب ہو رہے تھے، اور ادھر کمپنی کے لیڈرز غالباً مراقبہ کر رہے تھے — خاموشی کا۔ جب بولنے کا وقت آیا تو وہی گھسی پِٹی کہانی: "یہ ایک پیچیدہ سرور بریک تھا…" "ہم نے خزانے سے تحفظ دیا…" مگر کوئی یہ تو پوچھے، کہ صارفین کو یہ سب پہلے ZachXBT سے کیوں معلوم ہوا؟ ادارے کے آفیشل چینلز کہاں تھے؟ جب اپنی کمپنی کی چو...

خبر کا پوسٹ مارٹم – نوائے وقت

   خبر کا پوسٹ مارٹم – نوائے وقت کی بٹ کوائن رپورٹنگ پر سوالیہ نشان یہ خبر کچھ یوں شروع ہوتی ہے: " امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد... ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کمی آگئی ..." سب سے پہلے، یہ تاثر دینا کہ بٹ کوائن کی قیمت صرف ٹرمپ کے کسی بیان یا ٹیرف کی وجہ سے گری ہے — سراسر صحافتی نااہلی اور مارکیٹ ڈیٹا کی عدم فہمی ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت کا اتار چڑھاؤ صرف سیاسی بیانات سے نہیں ہوتا۔ یہ کوئی اسٹاک مارکیٹ کا شیئر نہیں جو ہر دوسری خبر پر دھڑام سے گر جائے۔ یہ ایک ڈی سینٹرلائزڈ نیٹ ورک ہے جو عالمی سطح پر طلب، فراہمی، ادارہ جاتی دلچسپی، آن چین ڈیٹا، اور تکنیکی عناصر پر چلتا ہے۔ یہ ٹیرف نہیں، یہ correction تھی اگر واقعی بٹ کوائن کی قیمت ۱۰۹,۹۹۳ ڈالر سے گری اور ۷۵,۰۰۰ ڈالر پر آ گئی — تو یہ کسی بھی نارمل مارکیٹ correction کا حصہ ہے، جسے ہر بٹ کوئنر جانتا ہے۔ کرپٹو مارکیٹ میں ۳۰٪ ڈِپ بالکل نارمل ہے۔ مگر یہ کہنا کہ "کرپٹو کے سرمایہ کار کنگال ہو گئے" ایک بدنیت اور سطحی تجزیہ ہے۔ یہ لوگ خوف پھیلا رہے ہیں یہ خبر نہ صرف خوف پھیلا رہی ...

ایم بی ایس گلوبل انویسٹمنٹس: مالدیپ میں دبئی کے شہزادے کا کرپٹو انقلاب 🌍💰

  کل میں نے ایک بڑی خبر شیئر کی تھی: "مالدیپ کا 9 ارب ڈالر کا بلاک چین منصوبہ – خواب یا حقیقت؟" 💰🌴💻 اس پر بہت سارے لوگوں نے مزید جاننے کے لئے دلچسپی ظاہر کی 🙋‍♂️🙋‍♀️ تو میں نے کئی گھنٹے ریسرچ کی 🔍📚 اب جو باتیں آپ کو ضرور جاننی چاہئیں، وہ یہ ہیں: 👇 📚 مالدیپ بلاک چین ہب اور MBS Global Investments پر تفصیلی تحقیق 🇲🇻💻💸 ایم بی ایس گلوبل انویسٹمنٹس، جو دبئی میں مقیم ایک فیملی آفس ہے، نے مالدیپ میں بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثوں کے مالیاتی مرکز کی ترقی کے لیے تقریباً 8.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے، خاص طور پر مالے میں مالدیپ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (MIFC) کی تعمیر کے لیے۔ یہ معاہدہ 4 مئی 2025 کو دستخط کیا گیا، جس کا مقصد مالدیپ کی معیشت کو سیاحت اور ماہی گیری سے ہٹا  کر متنوع بنانا اور اس کے قرضوں کے مسائل کو حل کرنا ہے، جو اس کی 7 ارب ڈالر کی جی ڈی پی سے زیادہ ہیں۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل پانچ سال میں متوقع ہے، جس سے 16,000 تک ملازمتیں پیدا ہوں گی اور ممکنہ طور پر ملک کی جی ڈی پی کو چار سال میں تین گنا تک بڑھایا جا سکے گا۔ فنڈنگ میں ایکویٹی اور قرض شامل ہی...