نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بِٹ کوائن سائیکل

 


اس بار کے بِٹ کوائن سائیکل میں کچھ عجیب ہو رہا ہے۔

ہمیں چار سالہ سائیکل کے آخری سال میں ہونا چاہیے۔ کمپنیاں پہلے سے زیادہ خرید رہی ہیں۔


لیکن قیمت؟ لوگوں کو بور کر رہی ہے۔

یہ  یہی وجہ ہے کہ شاید  ہم آخری بِٹ کوائن روٹیشن دیکھ رہے ہیں، اُس سے پہلے کہ سب کچھ بدل جانے والا ہے ،  دھیان دیں ۔

پچھلے ہر سائیکل میں، بِٹ کوائن کے تیسرے گرین سال میں زبردست تیزی آتی تھی،  تیزی سے بھاگتا تھا۔

لیکن 2025 میں؟ ابھی تک نہیں آئی ہے ۔

بڑے موومنٹس تو ہوئے ہیں، مگر corrections ہلکی رہی ہیں اور لمبے عرصے تک قیمت ایک ہی جگہ گھومتی رہی ہے۔

ممکن ہے سائیکل ٹوٹا نہ ہو، بس یہ ایک آہستہ اور نپے تلے انداز میں چل رہا ہو۔

پردے کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی چل رہی ہے۔

کچھ پرانے سرمایہ کار (یعنی وہ جو کافی عرصے سے ہولڈ کیے ہوئے  بیٹھے تھے) $100K سے اوپر بیچ رہے ہیں۔

اور نئے خریدار کون ہیں؟

BlackRock، Fidelity، Bitcoin Treasury کمپنیاں، اور وہ کارپوریشنز جو لمبے عرصے کی سٹریٹیجک پوزیشنز بنا رہی ہیں۔

یہ لوگ بیچنے نہیں آئے ہیں ،  غور فرمائیے ۔



Saylor نے خوب بات کہی:

"جو لوگ لمبے وقت تک بٹ کوائن سے  جُڑے رہنے کے لیے تیار نہیں، وہ نکل رہے ہیں... اور ایک نیا طبقہ بڑے سرمایہ کاروں کا داخل ہو رہا ہے۔"

یہی ہے روٹیشن کا حصہ:
ٹرسٹی، وکیل، حکومتوں سے → کمپنیوں، ETFs اور بڑی سطح کی بیلنس شیٹس کی طرف۔

یہ نئے خریدار ٹریڈ  نہیں لگا رہے، وہ  سیدھا allocate کر رہے ہیں۔

Swan کے CIO Ben Werkman نے خوب کہا:
"یہ کمپنیاں صرف لمبے عرصے کے لیے خریدتی ہیں، Bitcoin کو trade نہیں کرتیں۔"

جب long-term سرمایہ ایسی چیز سے ملے جس کی supply limited ہو، تو مارکیٹ میں available Bitcoin غائب ہونے لگتا ہے۔

سمجھ رہے ہیں ؟  تب ہی دھماکہ ہوتا ہے۔


ہم جس موڑ پر ہیں  یہاں  میں دیکھ رہا ہوں  Bitcoin مضبوط ہاتھوں میں جا رہا ہے، macro صورتحال خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ کیوں ؟  آیئے دیکھیں ...

ایک نایاب اور خطرناک فرقہ بندی ہو رہی ہے:
امریکی ڈالر کمزور ہو رہا ہے جبکہ bond yields تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ایسا نہیں ہونا چاہیے... یہ عالمی سرمایہ کاری کے لیے بڑا خطرہ ہے۔


Bitcoin صرف اداروں کے بیچ نہیں گھوم رہا، بلکہ نسلوں کے بیچ بھی گردش کر رہا ہے۔

Silent Generation نے سونے پر بھروسہ کیا۔
Boomers نے اسٹاکس میں دولت بنائی۔
Gen X نے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا۔

اب Millennials، جو اپنی جمع کرنے کی چوٹی والی عمر میں داخل ہو رہے ہیں، ٹریلینز وراثت میں پا رہے ہیں۔
اور وہ Bitcoin کو چن رہے ہیں۔ سمجھ آرہی ہے ؟ 

تو اگر آپ ابھی بیچ رہے ہیں، تو یہ سمجھ لیں:

آپ شاید اپنا Bitcoin ایسی کمپنی یا ادارے کو دے رہے ہیں جو اسے ہمیشہ کے لیے رکھنا چاہتا ہے۔

ایک بار چلا گیا، تو شاید کبھی واپس نہ ملے۔

دوبارہ سوچیں۔

یہ صرف اگلا سائیکل نہیں ہے، بلکہ ایک دور کا اختتام  ہورہا ہے۔

مارکیٹ میں دستیاب Bitcoin ختم ہو رہا ہے۔ اس بار خریدار خاص قسم کے لوگ  ہیں۔ macro صورتحال خراب ہو رہی ہے۔

یہ آخری Bitcoin روٹیشن ہے۔

اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، تو آپ تاریخ بدلنے والوں میں  موجود ہونا چاہیں گے۔

شکریہ !





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جب سچائی زبردستی کہلوائی جائے

  کوئن ڈی سی ایکس میں شفافیت کی عمر صرف "سترہ گھنٹے" تھی۔ بالکل ویسے جیسے دھواں ہوتا ہے — لمحوں میں غائب۔ ہندوستان کے دوسرے بڑے کرپٹو ایکسچینج سے 44.3 ملین ڈالر چپکے سے اڑا لیے گئے، اور اس دوران انتظامیہ نے عجیب خاموشی اختیار کی۔ نہ کوئی اعلان، نہ کوئی صفائی۔ خاموشی ٹوٹتی بھی کیسے؟ جب تک مشہور بلاک چین جاسوس ZachXBT نے ثبوتوں کی توپ نہ چلائی، کوئن ڈی سی ایکس مکمل خاموش تماشائی بنی رہی۔ چوروں نے اپنا کام خوب تیاری سے کیا۔ پہلے 1 ETH کو ٹورنیڈو کیش میں دھویا، پھر فنڈز کو مختلف چینز پر پھیلایا، اور بالآخر، کوئن ڈی سی ایکس کے والٹس کو surgical precision کے ساتھ خالی کر دیا۔ ادھر 28.3 ملین سولانا اور 15.78 ملین ایتھیریئم مکسنگ پروٹوکولز میں غائب ہو رہے تھے، اور ادھر کمپنی کے لیڈرز غالباً مراقبہ کر رہے تھے — خاموشی کا۔ جب بولنے کا وقت آیا تو وہی گھسی پِٹی کہانی: "یہ ایک پیچیدہ سرور بریک تھا…" "ہم نے خزانے سے تحفظ دیا…" مگر کوئی یہ تو پوچھے، کہ صارفین کو یہ سب پہلے ZachXBT سے کیوں معلوم ہوا؟ ادارے کے آفیشل چینلز کہاں تھے؟ جب اپنی کمپنی کی چو...

مائیکل سیلر کا 21 قدمی منصوبہ

  مائیکل سیلر کا 21 قدمی منصوبہ: "بِٹ کوائن سے دولت کمانے کا راستہ – وضاحت سے سخاوت تک" لاس ویگاس، نیواڈا – 31 مئی 2025: بِٹ کوائن 2025 کانفرنس کے آخری لمحات میں، مائیکل سیلر نے ایک اہم تقریر کی جس کا عنوان تھا: "دولت کے 21 مراحل" ۔ ہال بِٹ کوائن کے چاہنے والوں سے بھرا ہوا تھا، جو MicroStrategy کے شریک بانی اور مشہور بِٹ کوائن داعی کی باتیں سننے کے لیے بیتاب تھے — وہی سیلر جس کی کمپنی نے اپنی دولت کا بڑا حصہ بِٹ کوائن میں تبدیل کر کے لگ بھگ 3٪ کل سپلائی اپنے پاس رکھ لی ہے۔ مگر اس بار سیلر کی تقریر کچھ الگ تھی — نہ اداروں کے لیے، نہ کارپوریٹ خزانے والوں کے لیے — بلکہ عام لوگوں کے لیے۔ اس نے کہا: "یہ تقریر آپ سب کے لیے ہے۔ میں نے دنیا کے ملکوں، اداروں، اور یہاں تک کہ مستقبل کی نسلوں کی روحوں کو بھی بتایا کہ انہیں بِٹ کوائن کی ضرورت کیوں ہے۔ مگر آج کا پیغام ہر فرد، ہر خاندان، ہر چھوٹے کاروبار کے لیے ہے۔ یہ سب کے لیے ہے۔" سیلر نے اپنے خطاب "21 Steps to Wealth" میں بِٹ کوائن کو خوشحالی کی کنجی قرار دیا۔ اس کی باتیں جذباتی، نصیحت آمیز اور فکری ا...