نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پرو پیگنڈہ اور ان کے جواب

 

محمد يونس ڪرمي:

ایران کی تاریخ کے بارے میں چونکا دینے والے حقائق — جو بہت کم لوگ جانتے ہیں 

پچھلے 70 سالوں میں ایران کے مواقف:
1948ء عربوں اور اسرائیل کی جنگ میں ایران نے عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1956ء ایران نے پھر عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1967ء ایران نے عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1973ء ایران نے عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1980ء عراق اور ایران کی جنگ میں اسرائیل نے ایران کا ساتھ دیا یعنی عربوں کے خلاف
1988ء — آذربائیجان (مسلمان ترک) اور آرمینیا (عیسائی) کی جنگ میں ایران نے مسلمان ترکوں کے خلاف آرمینیا کا ساتھ دیا
1994ء — چیچنیا (اسلامی) اور روس کی جنگ میں ایران نے عملی طور پر روس کا ساتھ دیا
2001ء — افغانستان اور امریکہ کی جنگ میں ایران نے مسلمان افغانوں کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور امریکی جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی
2003ء — عراق اور امریکہ کی جنگ میں ایران نے عربوں کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور فوجی مدد فراہم کی
2020ء— آذربائیجان (مسلمان ترک) اور آرمینیا (عیسائی) کی جنگ میں ایران نے پھر مسلمانوں کے خلاف آرمینیا کا ساتھ دیا
---
> یہ ہے ایران اور یہ ہیں اس کے مواقف
> اور یہ فہرست اور بھی لمبی ہے...
> عرب اور اسلامی امت کے ساتھ ایران کی شرمناک دشمنی کی داستان ختم نہیں ہوتی۔
منقولایران کی تاریخ کے بارے میں چونکا دینے والے حقائق — جو بہت کم لوگ جانتے ہیں 
پچھلے 70 سالوں میں ایران کے مواقف:
1948ء عربوں اور اسرائیل کی جنگ میں ایران نے عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1956ء ایران نے پھر عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1967ء ایران نے عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1973ء ایران نے عربوں کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا
1980ء عراق اور ایران کی جنگ میں اسرائیل نے ایران کا ساتھ دیا یعنی عربوں کے خلاف
1988ء — آذربائیجان (مسلمان ترک) اور آرمینیا (عیسائی) کی جنگ میں ایران نے مسلمان ترکوں کے خلاف آرمینیا کا ساتھ دیا
1994ء — چیچنیا (اسلامی) اور روس کی جنگ میں ایران نے عملی طور پر روس کا ساتھ دیا
2001ء — افغانستان اور امریکہ کی جنگ میں ایران نے مسلمان افغانوں کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور امریکی جہازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی
2003ء — عراق اور امریکہ کی جنگ میں ایران نے عربوں کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور فوجی مدد فراہم کی
2020ء— آذربائیجان (مسلمان ترک) اور آرمینیا (عیسائی) کی جنگ میں ایران نے پھر مسلمانوں کے خلاف آرمینیا کا ساتھ دیا
---
> یہ ہے ایران اور یہ ہیں اس کے مواقف
> اور یہ فہرست اور بھی لمبی ہے...
> عرب اور اسلامی امت کے ساتھ ایران کی شرمناک دشمنی کی داستان ختم نہیں ہوتی۔
منقول

محمد یونس، آپ کی یہ "منقولہ" تاریخ دراصل حقائق کا بدترین مسخ شدہ مجموعہ ہے جسے صرف اور صرف جہالت یا ایجنڈے کے تحت پھیلایا جا رہا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ 1948 سے 1973 تک کی جن جنگوں کا آپ ذکر کر رہے ہیں، اس وقت ایران میں "شاہ" کی حکومت تھی جو امریکہ اور اسرائیل کا فرنٹ مین تھا؛ موجودہ انقلابی ایران تو اسی شاہ کے خلاف اٹھا اور اسرائیل سے تمام تعلقات ختم کیے۔ آپ شاہ کے گناہوں کو موجودہ نظام کے کھاتے میں ڈال کر اپنی علمی کم مائیگی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ 1980 کی جنگ میں اسرائیل نے ایران کا نہیں بلکہ پوری دنیا (بشمول امریکہ اور عرب ممالک) نے صدام کا ساتھ دیا تھا تاکہ نوخیز اسلامی انقلاب کو کچلا جا سکے؛ "ایران کونٹرا اسکینڈل" ایک امریکی سازش تھی نہ کہ ایرانی اتحاد۔

جہاں تک آذربائیجان اور آرمینیا کا تعلق ہے، ایران نے ہمیشہ سرحدوں کے تحفظ اور امن کی بات کی ہے، جبکہ افغانستان اور عراق میں امریکہ کی آمد کا سب سے بڑا مخالف ایران ہی تھا جس نے وہاں 'محورِ مقاومت' کھڑی کر کے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کیا۔ آپ کی یہ فہرست "شرمناک" نہیں بلکہ آپ کی اپنی سوچ کا شرمناک آئینہ ہے جو اسرائیل کے خلاف لڑنے والی واحد طاقت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ہم ایک ایسا گروہ ہیں جو آپ کے ان جھوٹے ذرائع اور آپ کی آئی ڈی کی ایک ایک حرکت سے واقف ہیں۔ ہم خاموش نہیں ہیں، ہماری نظریں آپ کے ان "کاپی پیسٹ" فتنوں پر جمی ہوئی ہیں۔ 
________________________________________________________________________________

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

جب سچائی زبردستی کہلوائی جائے

  کوئن ڈی سی ایکس میں شفافیت کی عمر صرف "سترہ گھنٹے" تھی۔ بالکل ویسے جیسے دھواں ہوتا ہے — لمحوں میں غائب۔ ہندوستان کے دوسرے بڑے کرپٹو ایکسچینج سے 44.3 ملین ڈالر چپکے سے اڑا لیے گئے، اور اس دوران انتظامیہ نے عجیب خاموشی اختیار کی۔ نہ کوئی اعلان، نہ کوئی صفائی۔ خاموشی ٹوٹتی بھی کیسے؟ جب تک مشہور بلاک چین جاسوس ZachXBT نے ثبوتوں کی توپ نہ چلائی، کوئن ڈی سی ایکس مکمل خاموش تماشائی بنی رہی۔ چوروں نے اپنا کام خوب تیاری سے کیا۔ پہلے 1 ETH کو ٹورنیڈو کیش میں دھویا، پھر فنڈز کو مختلف چینز پر پھیلایا، اور بالآخر، کوئن ڈی سی ایکس کے والٹس کو surgical precision کے ساتھ خالی کر دیا۔ ادھر 28.3 ملین سولانا اور 15.78 ملین ایتھیریئم مکسنگ پروٹوکولز میں غائب ہو رہے تھے، اور ادھر کمپنی کے لیڈرز غالباً مراقبہ کر رہے تھے — خاموشی کا۔ جب بولنے کا وقت آیا تو وہی گھسی پِٹی کہانی: "یہ ایک پیچیدہ سرور بریک تھا…" "ہم نے خزانے سے تحفظ دیا…" مگر کوئی یہ تو پوچھے، کہ صارفین کو یہ سب پہلے ZachXBT سے کیوں معلوم ہوا؟ ادارے کے آفیشل چینلز کہاں تھے؟ جب اپنی کمپنی کی چو...

بِٹ کوائن سائیکل

  اس بار کے بِٹ کوائن سائیکل میں کچھ عجیب ہو رہا ہے۔ ہمیں چار سالہ سائیکل کے آخری سال میں ہونا چاہیے۔ کمپنیاں پہلے سے زیادہ خرید رہی ہیں۔ لیکن قیمت؟ لوگوں کو بور کر رہی ہے۔ یہ  یہی وجہ ہے کہ شاید  ہم آخری بِٹ کوائن روٹیشن دیکھ رہے ہیں، اُس سے پہلے کہ سب کچھ بدل جانے والا ہے ،  دھیان دیں ۔ پچھلے ہر سائیکل میں، بِٹ کوائن کے تیسرے گرین سال میں زبردست تیزی آتی تھی،  تیزی سے بھاگتا تھا۔ لیکن 2025 میں؟ ابھی تک نہیں آئی ہے ۔ بڑے موومنٹس تو ہوئے ہیں، مگر corrections ہلکی رہی ہیں اور لمبے عرصے تک قیمت ایک ہی جگہ گھومتی رہی ہے۔ ممکن ہے سائیکل ٹوٹا نہ ہو، بس یہ ایک آہستہ اور نپے تلے انداز میں چل رہا ہو۔ پردے کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی چل رہی ہے۔ کچھ پرانے سرمایہ کار (یعنی وہ جو کافی عرصے سے ہولڈ کیے ہوئے  بیٹھے تھے) $100K سے اوپر بیچ رہے ہیں۔ اور نئے خریدار کون ہیں؟ BlackRock، Fidelity، Bitcoin Treasury کمپنیاں، اور وہ کارپوریشنز جو لمبے عرصے کی سٹریٹیجک پوزیشنز بنا رہی ہیں۔ یہ لوگ بیچنے نہیں آئے ہیں ،  غور فرمائیے ۔ Saylor نے خوب بات کہی: "جو لوگ لمبے وقت تک بٹ ...

مائیکل سیلر کا 21 قدمی منصوبہ

  مائیکل سیلر کا 21 قدمی منصوبہ: "بِٹ کوائن سے دولت کمانے کا راستہ – وضاحت سے سخاوت تک" لاس ویگاس، نیواڈا – 31 مئی 2025: بِٹ کوائن 2025 کانفرنس کے آخری لمحات میں، مائیکل سیلر نے ایک اہم تقریر کی جس کا عنوان تھا: "دولت کے 21 مراحل" ۔ ہال بِٹ کوائن کے چاہنے والوں سے بھرا ہوا تھا، جو MicroStrategy کے شریک بانی اور مشہور بِٹ کوائن داعی کی باتیں سننے کے لیے بیتاب تھے — وہی سیلر جس کی کمپنی نے اپنی دولت کا بڑا حصہ بِٹ کوائن میں تبدیل کر کے لگ بھگ 3٪ کل سپلائی اپنے پاس رکھ لی ہے۔ مگر اس بار سیلر کی تقریر کچھ الگ تھی — نہ اداروں کے لیے، نہ کارپوریٹ خزانے والوں کے لیے — بلکہ عام لوگوں کے لیے۔ اس نے کہا: "یہ تقریر آپ سب کے لیے ہے۔ میں نے دنیا کے ملکوں، اداروں، اور یہاں تک کہ مستقبل کی نسلوں کی روحوں کو بھی بتایا کہ انہیں بِٹ کوائن کی ضرورت کیوں ہے۔ مگر آج کا پیغام ہر فرد، ہر خاندان، ہر چھوٹے کاروبار کے لیے ہے۔ یہ سب کے لیے ہے۔" سیلر نے اپنے خطاب "21 Steps to Wealth" میں بِٹ کوائن کو خوشحالی کی کنجی قرار دیا۔ اس کی باتیں جذباتی، نصیحت آمیز اور فکری ا...